پرانی حویلی کا معائنہ
ہم دوپہر کے قریب اسٹوک موران پہنچے۔ گاؤں کی سنسان گلیاں اور ہوا میں پھیلا ہوا بوسیدہ لکڑی کا مہک، اس جگہ کے ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔ بارش کے بعد زمین کیچڑ سے بھری ہوئی تھی اور چاروں طرف خاموشی کی ایک موٹی تہہ چھائی ہوئی تھی۔
سامنے وہ پرانی حویلی کھڑی تھی — جس کے بارے میں ہیلن نے بتایا تھا۔ اس کی دیواروں پر وقت کے نشان واضح تھے، کھڑکیاں ٹوٹی پھوٹی، اور کچھ حصوں میں جھاڑیاں اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ دیواریں ان میں گم ہو چکی تھیں۔ دور سے دیکھتے ہی ایسا لگتا تھا جیسے یہ عمارت خود اپنے اندر کوئی راز چھپائے بیٹھی ہو۔
ہیلن ہمیں پچھلے دروازے سے اندر لے گئی۔ راہداری میں نمی کی بو اور فرش کے نیچے سے آتی ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ دل میں عجیب سا کھٹکا پیدا کر رہی تھی۔
ہم جولیا کے کمرے میں پہنچے — اب ہیلن کا کمرہ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ہومز نے گہری نظر دوڑائی۔ کمرے کے ایک کونے میں بھاری بیڈ تھا جو فرش سے جڑا ہوا تھا، گویا اسے ہلانا ممکن ہی نہ ہو۔ کھڑکی کے اوپر لوہے کی جالی لگی تھی، باہر کا منظر دھندلا دکھائی دیتا تھا۔
ہومز آہستہ آہستہ کمرے کا جائزہ لینے لگا۔
اس کی نظر فوراً دیوار میں بنے ایک چھوٹے سے وینٹ پر گئی جو سیدھا اگلے کمرے میں کھلتا تھا — ڈاکٹر رائلٹ کا کمرہ۔
میں نے دھیرے سے کہا: “یہ وینٹ کمرے کو ہوا دینے کے لیے ہے؟”
ہومز کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“ہوا دینے کے لیے؟ یا کچھ اور…؟”
پھر اس نے بیڈ کے اوپر لٹکی ایک گھنٹی کی ڈوری کو کھینچا، لیکن کوئی آواز نہ آئی۔ اس نے غور سے دیکھا — ڈوری سیدھی وینٹ کے قریب ختم ہو رہی تھی، جیسے یہ محض دکھاوا ہو۔
ہومز کے چہرے پر اب وہی مخصوص سنجیدگی آ گئی تھی جو میں جانتا تھا کہ کسی بڑے راز کے قریب ہونے کا اشارہ ہے۔
“واٹسن، آج رات ہم یہیں پہرہ دیں گے۔”
اس کی آواز میں ایک عجب ٹھہراؤ تھا، جیسے وہ پہلے ہی جان چکا ہو کہ آج رات کچھ ہونے والا ہے۔








Leave a Reply