ہزاروں سال پہلے مصر کا بادشاہ فرعون اپنی طاقت اور غرور میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کہتا، اور بنی اسرائیل پر ظلم کرتا۔ جب حضرت موسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے اپنی قوم کو نکالا تو فرعون اپنی فوج کے ساتھ ان کے پیچھے بھاگا۔
دریائے نیل (یا بحر قلزم/بحر احمر) کے کنارے یہ تاریخی منظر پیش آیا — بنی اسرائیل کو اللہ نے راستہ دیا اور وہ محفوظ گزر گئے، لیکن جب فرعون اپنی فوج کے ساتھ داخل ہوا تو پانی پلٹ آیا اور وہ غرق ہوگیا۔
لاش کا محفوظ رہنا
قرآن مجید (سورہ یونس، آیت 92) میں اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا:
آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔
یعنی فرعون کا جسم پانی میں غرق ہوا لیکن سڑنے گَلنے کے بجائے محفوظ رہا۔ یہ اللہ کی قدرتی نشانی تھی کہ قیامت تک لوگ دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔
قدیم مصر اور ممی کی دریافت
صدیوں بعد مصر کی وادیٔ ملوک میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران کئی فراعنہ کی لاشیں دریافت کیں۔ ان میں سے ایک لاش بالکل ویسی تھی جیسا قرآن نے بیان کیا تھا — پانی سے نکلی ہوئی، جسم پر نمک اور سمندری اثرات کے نشانات، لیکن گلنے سڑنے سے محفوظ۔
یہ لاش آج قاہرہ کے مصر کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔
جدید تحقیق اور سائنسی تصدیق
فرانسیسی ماہر ڈاکٹر مورس بوکائی نے 1975 میں اس لاش کا معائنہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ لاش ایک انسان کی ہے جو ڈوبا اور پھر جسم کو مخصوص انداز میں محفوظ کیا گیا۔
ان کی کتاب “The Bible, The Qur’an and Science” میں یہ تفصیل درج ہے۔
یہ سائنسی ثبوت قرآن کی سچائی کو واضح کرتے ہیں کہ واقعی فرعون کی لاش کو اللہ نے محفوظ رکھا۔
اسلامی نقطۂ نظر — عبرت کا نشان
فرعون طاقت، مال، فوج اور شان و شوکت رکھنے کے باوجود اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکا۔
آج بھی لاکھوں سیاح مصر جا کر اس کی لاش کو دیکھتے ہیں، جو غرور و تکبر کرنے والوں کے لیے عبرت ہے۔
یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ قرآن مجید کا ہر لفظ سچا ہے۔
نتیجہ
فرعون کی لاش ایک تاریخی دریافت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک *الٰہی نشانی ہے۔
وہ شخص جو کہتا تھا “میں سب سے بڑا خدا ہوں”، آج اس کی ممی شدہ لاش عجائب گھر کی الماری میں رکھی ہوئی ہے — تاکہ انسان یاد رکھے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی کی طاقت کچھ نہیں۔








Leave a Reply