, ,

پاکستان میں بارشوں سے 300 سے زائد ہلاکتیں — خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر

پاکستان بارشیں, مون سون سیلاب, 300 ہلاکتیں, خیبرپختونخوا سیلاب, بونیر تباہی, ماحولیاتی تبدیلی, امدادی کارروائیاں
بونیر میں تباہ کن سیلاب — پاکستان میں بارشوں سے 300 سے زائد ہلاکتیں

پاکستان میں شدید بارشوں سے تباہی، 300 سے زائد ہلاکتیں — خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر

اسلام آباد / پشاور (16 اگست 2025) — پاکستان بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں اور فلیش فلڈز نے قیامت برپا کر دی ہے، جہاں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 300 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ درجنوں اب بھی لاپتہ ہیں۔

یہ غیر معمولی بارشیں اور سیلاب ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہے ہیں، خاص طور پر خیبرپختونخوا (کے پی) صوبہ اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن چکا ہے۔


خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ جانی نقصان

بونیر ضلع خیبرپختونخوا کا وہ علاقہ ہے جہاں صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق صرف اسی ضلع میں 150 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں سے 90 سے زائد افراد ایک ہی دن میں سیلاب کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ندی نالے اچانک خطرناک ریلا بن کر گھروں اور دیہات کو بہا لے گئے، اور لوگ محفوظ مقامات پر جانے سے پہلے ہی پانی کی نذر ہو گئے۔


امدادی ہیلی کاپٹر کا حادثہ

متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے تعینات کیا گیا ایک فوجی ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار پانچ اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ ہیلی کاپٹر میں امدادی سامان اور طبی سہولیات موجود تھیں، اور یہ بونیر کے پہاڑی علاقوں کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ خراب موسم اور تکنیکی مسائل کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔


موسمیاتی تبدیلی کا کردار

ماہرینِ موسمیات اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے مطابق، اس سال کے مون سون میں غیر معمولی شدت عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دیکھی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق، بارش کی مقدار معمول سے 10–15 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کو شدید تر کر دیا۔

یہ تحقیق اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نہ صرف بارش کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ اس کی غیر متوقع نوعیت نے ہنگامی منصوبہ بندی کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔


ریسکیو آپریشنز اور درپیش مشکلات

ملک بھر میں ریسکیو ادارے بشمول ریسکیو 1122، پاک فوج، اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، لینڈ سلائیڈنگ، سڑکوں کی بندش، تباہ شدہ پلوں اور شدید بارش کے باعث رسائی نہایت مشکل ہو چکی ہے۔

کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ مقامی آبادی کو خوراک، پینے کے پانی اور طبی امداد کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ کچھ مقامات پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک گرائی جا رہی ہے، لیکن خراب موسم اس عمل میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔


نتیجہ

پاکستان میں جاری بارشوں نے موسمیاتی ایمرجنسی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ماہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اور دیرپا حکمت عملی مرتب کی جائے۔ دوسری جانب، متاثرین کو فوری امداد کی فراہمی، بحالی اور محفوظ مقامات کی جانب منتقلی اولین ترجیح بن چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *