واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) – سابق امریکی قومی سلامتی مشیر نے ایک حالیہ انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مجوزہ درآمدی ٹیرف کو نافذ کیا تو اس کے نتیجے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، بھارت اس وقت امریکی مارکیٹ پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے، لیکن اگر ٹیرف میں اضافہ ہوا تو نئی دہلی کو متبادل تجارتی شراکت دار تلاش کرنے پڑیں گے — اور اس صورتحال میں چین اور روس سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ملک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
“چین اور روس پہلے ہی بھارت کے ساتھ توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مضبوط تعلقات قائم کر چکے ہیں۔ اگر واشنگٹن نے تجارتی رکاوٹیں بڑھائیں تو یہ تعلقات مزید گہرے ہو جائیں گے، جس سے امریکہ کا اسٹریٹجک اثر کمزور ہو سکتا ہے۔”
عالمی اثرات
امریکی برآمدات میں کمی اور بھارتی مارکیٹ سے فاصلے کا خطرہ۔
چین اور روس کی خطے میں اسٹریٹجک پوزیشن مزید مضبوط ہونا۔
دفاعی سازوسامان اور توانائی کے معاہدوں میں امریکہ کی بجائے ماسکو اور بیجنگ کی ترجیح۔
تجزیہ کاروں کی رائے
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ جیو پولیٹیکل حالات میں بڑے معاشی فیصلے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ بھارت کے لیے چین اور روس کے ساتھ قربت محض تجارتی فائدہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
۔








Leave a Reply