حصہ اول: خاموشی کی چادر میں لپٹی لڑکی
مقام: لاہور | وقت: سردیوں کی صبح
لاہور، جو اپنے تاریخی حسن اور گہری ثقافت کے لیے جانا جاتا ہے، سردیوں میں کچھ اور ہی دلکش نظر آتا ہے۔ خاص طور پر صبح کے وقت جب دھند ہوا میں گھلی ہوئی ہوتی ہے، درختوں پر اوس کی نمی ٹک ٹک کرتی دکھائی دیتی ہے، اور فضا میں خاموشی کی ایک پرُاسرار سی چادر تنی ہوتی ہے۔
ایسی ہی ایک صبح، لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے ادب کے ڈیپارٹمنٹ میں زندگی اپنے معمول پر رواں دواں تھی۔ مگر اس معمول میں ایک کردار ایسا تھا جو سب سے مختلف تھا — علیشہ۔
علیشہ ایک سادہ مگر بے حد حسین لڑکی تھی۔ اس کا حسن وہ نہیں تھا جو بھیڑ میں شور مچاتا ہو، بلکہ وہ خاموشی سے دل میں اُتر جانے والا حسن تھا۔ وہ ہر روز اپنے بیگ میں کتابیں رکھے یونیورسٹی آتی، کلاسز لیتی، اور بغیر کسی سے خاص بات کیے واپس چلی جاتی۔ نہ دوستوں کی بھیڑ، نہ ہنسی کے قہقہے، صرف خاموشی اور سنجیدگی۔
اس کے چہرے پر ایک پرسکون سنجیدگی چھائی رہتی، مگر جو لوگ ذرا غور سے دیکھتے، وہ اس کی آنکھوں میں چھپی گہری اداسی کو محسوس کر سکتے تھے۔ وہ اداسی جس کی جڑیں اس کے ماضی میں پیوست تھیں — ایک بچپن جو والدین کی علیحدگی کی تلخی میں کھو گیا، اور وہ اعتماد جو کبھی پلٹ کر نہ آیا۔
علیشہ کو رشتوں سے ڈر لگتا تھا۔
اس کے نزدیک لوگ آتے ہیں، وقتی باتیں کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
اسی لیے اس نے خود کو کتابوں کی دنیا میں قید کر لیا تھا۔
کیونکہ کتابوں کے کردار دھوکہ نہیں دیتے، اور کہانیاں ہمیشہ ساتھ دیتی ہیں۔
ادب کے طلبا میں علیشہ کو “کتابوں کی دیوانی”، “سنجیدہ لڑکی”، یا “اداس آنکھوں والی” کے نام سے جانا جاتا تھا۔
اس کی نشست ہمیشہ کمرے کے آخری کونے میں ہوتی تھی، جیسے وہ لوگوں سے خود کو جُدا رکھنا چاہتی ہو۔
اس کی ڈائری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی، جس میں وہ اکثر ایسے جملے لکھتی جو اس کے دل کی آواز ہوتے:
“کبھی کبھی انسان خاموش رہ کر سب کچھ کہہ دیتا ہے، مگر سننے والا چاہیے۔”
یونیورسٹی کیفے کا ایک پرانا سا گوشہ، جہاں ایک کھڑکی باہر کھلے لان کی طرف کھلتی تھی، علیشہ کی پسندیدہ جگہ تھی۔ وہاں بیٹھ کر وہ چائے کی چُسکیاں لیتی، اور اپنی پسندیدہ کتابوں میں کھو جاتی۔
بارش کے دنوں میں وہ اکثر وہاں خاموش بیٹھی بارش کی بوندوں کو دیکھتی رہتی — جیسے وہ بوندیں اس کے دل پر گرے زخموں کو دھو رہی ہوں۔
انہی دنوں یونیورسٹی میں ایک تازہ خبر نے ہلچل مچائی:
“لندن سے ایک نیا مہمان لیکچرار آ رہا ہے، نام ہے زارون علی۔”
زارون علی — آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ، ادب کا عاشق، اور نوجوان لڑکیوں کے لیے پرکشش شخصیت کا پیکر۔
یونیورسٹی میں اس کا چرچا ہر محفل میں ہونے لگا:
“یار سنا ہے بہت ہینڈسم ہے!”
“کہتے ہیں کہ وہ شاعری بھی کرتا ہے!”
“پتہ نہیں کیسا ہوگا، لیکن لندن سے ہے تو کچھ خاص ہی ہوگا!”
علیشہ نے ہمیشہ کی طرح ان باتوں پر دھیان نہ دیا۔
اس کے لیے دنیاوی تعریف و توصیف بے معنی تھی۔
مگر اسے کیا علم تھا کہ یہی “زارون علی” اس کی زندگی میں وہ رنگ بھرنے آ رہا ہے، جس کا تصور بھی اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔








Leave a Reply