, ,

تابوتِ سکینہ کی تلاش میں: اسرائیل سے صہیونیوں تک

تابوتِ سکینہ کی تلاش میں: اسرائیل سے صہیونیوں تک — ایک مسلسل حقیقت پر مبنی کہانی
تابوتِ سکینہ کی تلاش میں: اسرائیل سے صہیونیوں تک — ایک مسلسل حقیقت پر مبنی کہانی

تابوتِ سکینہ ایک ایسا مقدس صندوق ہے جسے تین بڑے الہامی مذاہب — اسلام، یہودیت اور عیسائیت — میں بے حد مقدس سمجھا جاتا ہے۔
یہ وہی صندوق ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کچھ تبرکات، اللہ کی طرف سے نازل کردہ احکام، اور بنی اسرائیل کے لیے سکون و نصرت کی علامتیں موجود تھیں۔

قرآن کریم میں سورہ بقرہ، آیت 248 میں اس کا ذکر موجود ہے:

“اور ان کے نبی نے ان سے کہا: اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ تابوت آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکون و اطمینان کی چیزیں ہوں گی


1. تابوتِ سکینہ کیا تھا؟

یہ ایک لکڑی کا صندوق تھا جس پر سونے کی پرت چڑھی ہوئی تھی۔
یہودی روایات کے مطابق اس میں درج ذیل چیزیں تھیں:

  • حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تورات کی تختیاں

  • حضرت ہارون علیہ السلام کی عصا (چھڑی)

  • بنی اسرائیل کے لیے آسمان سے نازل ہونے والی “من و سلویٰ” کا برتن

  • اور کچھ دیگر تبرکات

تابوت بنی اسرائیل کے لیے اللہ کی نصرت کا نشان تھا۔ جب وہ جنگ میں اس کے ساتھ نکلتے تو کامیابی ان کا مقدر بنتی۔


2. تابوت کا غائب ہونا

یہ تابوت بعد میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں، فتنوں اور بدعملیوں کے نتیجے میں ان سے چھن گیا۔
جب بابلی حکمران بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں بیت المقدس کو تباہ کیا، تب ہی تابوت بھی غائب ہو گیا۔

اس بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں:

  • کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسے بیت المقدس کے نیچے کہیں دفن کر دیا گیا۔

  • کچھ کے مطابق اسے کسی دور دراز علاقے (جیسے ایتھوپیا) منتقل کر دیا گیا۔

  •  
  •  صہیونی عقیدہ ہے کہ تابوت آج بھی ہیکل سلیمانی (Temple Mount) کے نیچے موجود ہے۔


3. صہیونیت اور تابوتِ سکینہ کی تلاش

انیسویں صدی کے آخر میں “صہیونی تحریک” (Zionist Movement) کا آغاز ہوا۔
اس تحریک کے بنیادی مقاصد تھے:

  • ایک یہودی ریاست کا قیام (جو بعد میں اسرائیل بنی)

  • بیت المقدس پر مکمل قبضہ

  • “تیسرا ہیکل” (Third Temple) تعمیر کرنا

صہیونیوں کے نزدیک تابوتِ سکینہ کی تلاش صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں، بلکہ ان کے سیاسی و مذہبی منصوبے کا مرکزی نکتہ ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ جب تک تابوت نہیں ملے گا، ان کی “الٰہی بادشاہت” کا قیام ممکن نہیں۔


4. کھدائیاں، سازشیں، اور راز

 1967

میں اسرائیل نے مشرقی بیت   المقدس پر قبضہ کیا، جس میں مسجد اقصیٰ بھی شامل تھی۔
اس کے بعد:

  • مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کے نیچے خفیہ کھدائیاں شروع ہوئیں

  • صہیونی ماہرین آثار قدیمہ ان علاقوں میں تابوت کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں

  • کئی سرنگیں، چیمبر، اور راستے دریافت کیے جا چکے ہیں

فلسطینی اور مسلم دنیا ان کارروائیوں کو قبلہ اول کے خلاف گہری سازش سمجھتی ہے۔


5. صہیونی عقائد اور مذہبی جنون

صہیونی تحریک محض ایک سیاسی تحریک نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا مذہبی نظریہ موجود ہے:

  • یہودی عقیدہ ہے کہ اللہ نے فلسطین ان کے لیے وعدہ کی گئی سرزمین کے طور پر عطا کی

  • تابوتِ سکینہ کی بازیابی ان کے مذہبی فریضے کا حصہ ہے

  • جب تابوت مل جائے گا، وہ “تیسرا ہیکل” تعمیر کریں گے — اور اس کے لیے مسجد اقصیٰ کو مسمار کرنا ان کا ارادہ ہے

“Temple Institute” جیسے ادارے ہیکل کی مکمل تیاری کر چکے ہیں:
کپڑے، اوزار، قربانی کے طریقے، حتیٰ کہ کاہن (پادری) بھی تربیت یافتہ ہیں۔


6. مسلمانوں کا موقف

اسلام میں تابوتِ سکینہ کو ایک تاریخی اور بابرکت نشانی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے — لیکن:

  • اس پر ایمان رکھنا یا اس کی تلاش کو دینی فریضہ سمجھنا ضروری نہیں

  • نبی کریم ﷺ کے بعد اللہ کی مدد و نصرت کا مرکز قرآن، سنت اور اُمت بن چکی ہے

  • مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، جہاں نبی ﷺ نے معراج کی رات تمام انبیاء کی امامت فرمائی


7. آج کا منظرنامہ

  • صہیونی حکومت خفیہ طور پر تابوت کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے

  • اسرائیلی فوج اور خفیہ ادارے مسجد اقصیٰ کے نیچے کھدائی کے لیے غیر قانونی اقدامات کر رہے ہیں

  • آئے دن مسجد اقصیٰ پر حملے، بے حرمتی، اور نمازیوں پر ظلم انہی عزائم کا حصہ ہیں


کیا تابوتِ سکینہ مل جائے گا؟

یہ سوال آج بھی معلق ہے

اگر تابوت واقعی زمین میں کہیں دفن ہے، تو کیا وہ کبھی ملے گا؟

اگر مل بھی جائے، تو کیا صہیونیوں کے عزائم پورے ہو جائیں گے؟

یا اللہ کا نظام ان سازشوں کو خود ہی ناکام بنا دے گا؟


نتیجہ

تابوتِ سکینہ

یہودیوں کے لیے ایک عقیدے، اقتدار اور برتری کی علامت ہے

صہیونیوں کے لیے ایک سیاسی ہتھیار اور مذہبی پروپیگنڈہ ہے

مسلمانوں کے لیے ایک ماضی کی برکت، مگر حال میں کوئی لازمی عقیدہ نہیں

لیکن اصل سوال یہ ہے

کیا ہم تابوت کی تلاش میں لگے رہیں گے؟ یا اس حق کی طرف رجوع کریں گے جو آج بھی ہمارے درمیان قرآن کی صورت میں موجود ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *