رات کا پہرہ اور مہلک سچائی
شام ڈھلتے ہی اسٹوک موران پر ایک خاموش اور خوفناک سناٹا چھا گیا۔ بادلوں نے چاند کی روشنی کو ڈھانپ رکھا تھا اور ہوا میں ایک عجیب سی بوجھل نمی تھی، جیسے پوری فضا میں کوئی انجانا خطرہ تیر رہا ہو۔
ہومز اور میں کمرے کی تمام لائٹس بجھا کر، اندھیرے میں بیڈ کے پاس کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ہم نے ہیلن کو اس رات کسی محفوظ جگہ پر بھیج دیا تھا تاکہ وہ خطرے سے دور رہے۔ کمرے میں صرف اتنی روشنی تھی جتنی کھڑکی سے آتی بارش کی بوندوں پر پڑ کر منعکس ہو رہی تھی۔
گھنٹوں گزر گئے۔ باہر کبھی بارش کی آواز تیز ہو جاتی، کبھی ہوا دروازوں کے کناروں سے سرسراتی ہوئی گزرتی۔ ہم دونوں خاموش بیٹھے بس سنتے رہے — ہر آہٹ، ہر کھڑکھڑاہٹ، ہر سرسراہٹ۔
پھر… آدھی رات کے قریب، وہ لمحہ آ گیا۔
وینٹ کی سمت سے ایک ہلکی سی سیٹی سنائی دی — بالکل ویسی جیسی ہیلن نے بیان کی تھی۔ وہ آواز اتنی مدھم تھی کہ شاید عام انسان کے کان اسے نظرانداز کر دیتے، مگر ہومز کے لیے یہ اشارہ واضح تھا۔
میں نے سانس روکے وینٹ کی طرف دیکھا۔ اگلے ہی لمحے ایک باریک سا، لمبا اور چمکدار جسم آہستہ آہستہ بیڈ کے اوپر اترنے لگا۔ کمرے کی مدھم روشنی میں اس کے جسم پر دھبے واضح نظر آ رہے تھے۔
“سانپ…!” میں نے دل ہی دل میں کہا۔
ہومز نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنی لمبی چھڑی اٹھائی اور پوری طاقت سے سانپ کو وینٹ کی طرف دھکیل دیا۔ سانپ تیزی سے واپس گھس گیا۔ اور پھر…
اگلے ہی لمحے ڈاکٹر رائلٹ کے کمرے سے ایک خوفناک چیخ گونجی — ایسی چیخ جو پورے مکان میں گونجتی رہی۔ پھر سب خاموش ہو گیا۔
ہم دوڑ کر اس کے کمرے میں گئے۔ لیمپ کی روشنی میں منظر لرزا دینے والا تھا: ڈاکٹر رائلٹ فرش پر گرا ہوا تھا، اس کی گردن پر تازہ نشانات تھے اور سانپ — ایک زہریلا “اسپیکلزڈ بینڈ” — اس کے کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا۔
ہومز نے اطمینان سے کہا:
“واٹسن، بعض اوقات قاتل خود اپنے ہی جال میں پھنس جاتا ہے۔ یہ کیس ختم ہوا۔
(ختم شد)”








Leave a Reply