موت کا سایہ قریب ہے
ہیلن نے اپنی کہانی جاری رکھی، مگر اس کے چہرے پر اب ایک نیا خوف نمایاں ہو چکا تھا — ایسا خوف جو ماضی کی یادوں سے نہیں بلکہ آنے والے خطرے سے جنم لیتا ہے۔
“جولیا کی موت کے بعد زندگی جیسے تھم سی گئی تھی۔ میں کئی مہینے تک اس کمرے کے قریب بھی نہیں گئی جہاں وہ مری تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، سب نے اسے ایک عجیب حادثہ سمجھ کر بھلا دیا… سوائے میرے۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی:
“اب… میری اپنی منگنی ہو چکی ہے۔ اور رائلٹ نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں جولیا والے کمرے میں شفٹ ہو جاؤں۔”
ہومز نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“لیکن کیوں؟”
ہیلن کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ وہ آہستگی سے بولی:
“میں نہیں جانتی۔ مگر یہ جانتی ہوں کہ ہر رات، تقریباً آدھی رات کو، میں ایک عجیب سی آواز سنتی ہوں… جیسے کوئی ہلکی سی سیٹی بجا رہا ہو۔”
میں نے بےاختیار کہا: “سیٹی؟”
ہیلن نے اثبات میں سر ہلایا۔
“جی، بالکل ویسی ہی آواز جو جولیا کو اپنی موت سے پہلے سنائی دیتی تھی۔ پہلی بار جب میں نے سنی تو میں نے سوچا یہ میرا وہم ہے، لیکن اب… اب میں جانتی ہوں کہ یہ کوئی عام آواز نہیں ہے۔”
باہر آسمان پر گہرے بادل چھا گئے تھے اور بارش تیز ہو چکی تھی۔ کمرے کی روشنی میں ہیلن کے چہرے کا خوف اور بھی نمایاں ہو رہا تھا۔ اس کے کانپتے ہاتھ اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ کسی حقیقی خطرے کے سائے میں جی رہی ہے۔
ہومز اپنی کرسی پر سیدھا ہو بیٹھا، اس کی نظریں چمک رہی تھیں۔
“واٹسن، ہمیں اسٹوک موران جانا ہوگا۔ آج ہی۔”
میں نے حیرت سے پوچھا: “آج ہی؟”
ہومز نے پائپ ایک طرف رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا:
“کیونکہ اگر ہم نے دیر کی… تو شاید کل یہ لڑکی زندہ نہ ہو۔








Leave a Reply