پراسرار موت کی داستان
ہیلن اسٹونر کی آنکھوں میں خوف کی چمک اور ماضی کی تکلیف ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں اپنی داستان شروع کی، گویا ہر لفظ کے ساتھ اس کے زخم تازہ ہو رہے ہوں۔
“میری اور جولیا کی زندگی کا سکون ہماری ماں کے انتقال کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا۔ ماں کے جانے کے بعد ہمیں اپنے سوتیلے باپ، ڈاکٹر گریمس بی رائلٹ کے ساتھ رہنا پڑا۔”
اس نے ایک لمحے کو سانس روکا اور جیسے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
“رائلٹ… ایک عجیب و غریب آدمی تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی سختی تھی جو دل کو دہلا دیتی تھی۔ وہ معمولی سی بات پر غصے میں آ جاتا، اور جب غصہ آتا تو اس کا چہرہ ایک بھیانک شکل اختیار کر لیتا۔”
ہیلن کے لہجے میں اب ہلکی کانپ پیدا ہو گئی۔
“ہم ایک پرانی، سنسان حویلی میں رہتے تھے… حویلی اتنی خاموش کہ ذرا سی ہوا چلتی تو اس کے دروازے چڑچڑا کر آواز دینے لگتے، اور رات کو اس کی دیواروں سے عجب سرگوشیاں سنائی دیتیں۔ گاؤں والے اسے ایک منحوس جگہ سمجھتے تھے۔”
ہومز اور میں ہمہ تن گوش تھے۔ کمرے میں موجود خاموشی اتنی گہری ہو گئی تھی کہ ہم ایک دوسرے کی سانسوں کی آواز بھی سن سکتے تھے۔
“دو سال پہلے جولیا کی شادی طے ہوئی تھی،” ہیلن نے آہستگی سے کہا، “وہ خوشی سے چمک رہی تھی، ہر روز اپنے مستقبل کے خواب بانٹتی تھی۔ لیکن شادی سے صرف دو ہفتے پہلے… ایک رات… سب کچھ ختم ہو گیا۔”
اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
“اس رات بارش ہو رہی تھی۔ میں اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک جولیا کی ایک خوفناک چیخ نے مجھے جگا دیا۔ وہ چیخ ایسی تھی جیسے کسی کی روح جسم سے نکلتے وقت نکالتی ہے۔ میں بھاگتی ہوئی اس کے کمرے کی طرف گئی۔”
ہیلن نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اس لمحے کو بیان کیا:
“میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا وہ بستر سے گری ہوئی تھی، اس کا چہرہ زرد اور آنکھوں میں ایسا خوف تھا جو میں نے کبھی کسی انسان میں نہیں دیکھا۔ وہ شدید درد میں تھی، لیکن ہمت جٹا کر کپکپاتی آواز میں بس ایک جملہ کہا —”*
ہیلن نے لمحے بھر کو آنکھیں بند کیں، جیسے وہ الفاظ دوبارہ سن رہی ہو:
“یہ بینڈ… دھبے دار بینڈ!”
“پھر… اس کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ وہ مر چکی تھی۔”
ہیلن کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“ہم نے ہر ممکن کوشش کی، لیکن موت کی اصل وجہ کبھی پتہ نہ چل سکی۔ کوئی زخم، کوئی نشانی… کچھ بھی نہیں ملا۔”
شرلاک ہومز کرسی پر آگے جھک گیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ تیز روشنی آ گئی جو میں صرف اس وقت دیکھتا تھا جب وہ کسی غیر معمولی معمہ سے ٹکرا جاتا۔
“واٹسن، یہ کیس عام نہیں ہے… یہ ایک ایسی سنسنی خیز کہانی کا آغاز ہے جس میں ہر موڑ پر خطرہ چھپا ہے۔








Leave a Reply