,

“جب خوف دروازہ کھٹکھٹائے – شرلاک ہومز کا ایک پراسرار کیس”

شیرلوک ہولمز کے مشہور جاسوسی کیس کا پراسرار منظر
لندن کی دھند آلود گلی میں چھپا ایک ایسا دروازہ جہاں خوف نے دستک دی

شرلاک ہومز کی سنسنی خیز کہانی – ایک سرد صبح کا آغاز

لندن کی ایک سرد اور دھند آلود صبح تھی۔ سڑکوں پر گھوڑا گاڑیوں کی ہلکی ہلکی چاپ سنائی دے رہی تھی، اور فضا میں ٹھنڈی ہوا کے ساتھ نم مٹی کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ میں، ڈاکٹر واٹسن، حسبِ معمول اپنے کلینک سے نکل کر  بیگ اسٹریٹ کی طرف جا رہا تھا۔ مگر آج دل میں ایک عجیب سی بےچینی تھی، جیسے کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہونے والا ہو۔

جب میں ہومز کے فلیٹ میں داخل ہوا تو منظر کچھ یوں تھا: شرلاک ہومز کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، دھندلے شیشے کے پار گہری نظر سے سڑک کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پائپ تھا، اور دھوئیں کے مرغولے کمرے میں آہستہ آہستہ تیر رہے تھے۔ اس کے چہرے پر گہری سوچ کی لکیریں تھیں، جیسے وہ ذہن میں کسی پیچیدہ معمے کو حل کر رہا ہو۔

اچانک دروازے پر ہلکی مگر بےتاب دستک ہوئی—ایسی دستک جس میں عجلت، خوف اور اضطراب سب کچھ چھپا ہو۔ ہومز نے ایک لمحے کو میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا:
“واٹسن، ہمارے مہمان آ گئے ہیں… اور میرا خیال ہے یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔”

دروازہ کھلا اور ایک نوجوان عورت اندر داخل ہوئی۔ اس کا چہرہ پیلا پڑا ہوا تھا، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے واضح تھے جیسے کئی راتوں سے نیند نہ آئی ہو۔ بارش کی نمی نے اس کے کپڑوں کو بھگو دیا تھا اور اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔ اس کی نظریں کمرے کا جائزہ لیتی ہوئی فوراً ہومز پر جا ٹھہریں۔

“میرا نام ہیلن اسٹونر ہے،” اس نے تھرتھراتی ہوئی آواز میں کہا۔
پھر کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد جیسے خود کو ہمت دی:
“میں شدید خطرے میں ہوں… میری بہن کو پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا تھا… اور مجھے لگتا ہے کہ اب میری باری ہے۔”

یہ الفاظ سنتے ہی کمرے میں ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔ باہر کی ٹھنڈی ہوا کھڑکی سے اندر آ کر جیسے ہمارے جسم میں اتر گئی ہو۔ شرلاک ہومز کی آنکھوں میں وہ خاص چمک آ گئی جو صرف کسی پیچیدہ اور سنسنی خیز کیس کی ابتدا میں نظر آتی تھی۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *