خاموشی کے اُس پار — ایک بے آواز چیخ
موت کی وہ دیوار، جس پر ایلفریڈ نے چڑھنے سے انکار کیا، اب بھی ویسے ہی قائم تھی — بلند، سرد، اور بے رحم۔
اس کے قدموں تلے Liz کی بے جان لاش تھی، اور اس کی نظروں میں وہ سوال جو شاید کبھی ختم نہ ہوں:
“کیا ہم صرف استعمال ہونے کے لیے پیدا ہوئے؟ کیا سچ کی کوئی قیمت باقی ہے؟”
وہ واپس نیچے اتر آیا تھا — کیونکہ وہ جانتا تھا، دیوار کے اُس پار اگر زندگی ہے بھی… تو وہ ادھوری ہو گی۔لز کے بغیر، ہر آزادی ایک قید ہے۔
اندر کی دنیا کی شکست
جیسے ہی گولیاں خاموش ہوئیں، دیوار کے اُس پار کھڑے اہلکار چپ ہو گئے۔ وہ لوگ جو ایلفریڈ کو “بچا” رہے تھے، اب محض تماشائی تھے۔ ان کی خاموشی اس سسٹم کی وہ سچائی تھی جو سب کچھ کہہ گئی
“ہم نے اسے بھی قربان کر دیا، جیسے اوروں کو کیا تھا۔”
مغرب کی حکومت نے ایلفریڈ کو استعمال کیا، مشرق کی حکومت نے اس کی جان لی، اور درمیان میں — وہ صرف ایک انسان تھا، جو محبت اور سچائی کی تلاش میں ختم ہو گیا۔
عالمی کھیل کا ایک مہرہ
دنیا کے نقشے پر کہیں بھی ایک نشان نہیں بدلا۔ کوئی دیوار نہیں گری، کوئی جنگ نہیں رکی۔
لیکن ایلفریڈ جیسے لوگ، روز اس کھیل میں جھونکے جاتے ہیں۔ وہ سچائی کے سفیر نہیں، نہ ہی ہیرو —
بس ایک فائل کا حصہ، ایک منصوبہ کا جزو، اور ایک لمحاتی ضرورت۔
ایلفریڈ کی کہانی ختم ہوئی… مگر سوال باقی رہے:
کیا کوئی نظام انسان سے بڑا ہونا چاہیے؟
کیا سچ صرف ایک تزویراتی حربہ ہے؟
اور کیا محبت، اس ساری دھوکہ بازی میں اب بھی بچ سکتی ہے؟
آخری سطر
دیوار کے اس پار خاموشی تھی…
مگر ایلفریڈ کی موت نے وہ سوال زندہ کر دیے جو نظام صدیوں سے چھپاتا آیا تھا۔








Leave a Reply