,

سایوں میں چھپی حقیقت(Part4)

آخری چال — قربانی یا نجات؟

دن دھیرے دھیرے اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن ایلفریڈ کے اندر کی کشمکش شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہ جان چکا تھا کہ سچ اور جھوٹ کی دیواریں گرنے والی ہیں — لیکن ان کے ملبے تلے کون دبے گا؟ وہ خود… یا وہ ادارہ جس نے اسے ایک مشن دے کر آگ میں جھونک دیا؟

مشرق کی عدالت میں مقدمہ چلنے کو تھا۔ فِڈلر نے پوری تیاری کر لی تھی کہ وہ منڈت کو بے نقاب کرے گا، اور ایلفریڈ اس کا سب سے اہم گواہ بنے گا۔ مگر ایلفریڈ کے دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی —
“اگر منڈت واقعی ہمارا ہی آدمی ہے، تو کیا میں اپنی ہی قوم کے راز کھولنے جا رہا ہوں؟”

رات کے اندھیرے میں، ایلفریڈ کی کوٹھری کا دروازہ کھلا۔
منڈت، جس کے خلاف مقدمہ ہونے والا تھا، اندر آیا۔
اس کی نظریں سرد تھیں، اور آواز میں زہر:
“تم صرف ایک مہرہ تھے، ایلفریڈ۔ ایک بار پھر، ہم نے تمہیں قربانی کا بکرا بنایا… اور تم نے کوئی سوال تک نہ کیا۔”

ایلفریڈ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔

خون، دھوکہ، اور ایک فیصلے کی گھڑی

اگلے دن عدالت میں سب کچھ بدل گیا۔ اچانک، فِڈلر پر الزام لگا دیا گیا کہ وہ جھوٹا ہے، اور منڈت کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔
ایلفریڈ کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔
اس کی گواہی کبھی ریکارڈ ہی نہ ہوئی۔

مشن کامیاب رہا — لیکن جس قیمت پر؟

ایلفریڈ کو آزاد کر دیا گیا، لیکن صرف بظاہر۔
حقیقت میں وہ اب بھی ایک قیدی تھا — اپنے ضمیر کا، اپنے ادارے کا، اور اس نظام کا جو انسان کو ایک مہرہ سمجھ کر چلاتا ہے۔

آخری منظر: دیوار کے اُس پار

ایلفریڈ کو بتایا گیا کہ لز اب بھی زندہ ہے، اور اسے واپس مغربی جرمنی بھیجا جائے گا۔
ایک رات، وہ اور لز دیوار کے قریب پہنچے۔ صرف ایک باڑھ، صرف ایک دیوار تھی آزادی اور غلامی کے درمیان۔

لیکن… جیسے ہی وہ دیوار پر چڑھنے لگے، گولیوں کی آواز گونجی۔

لز  زمین پر گری — بے جان، خاموش۔

ایلفریڈ نے اوپر چڑھنے کی بجائے نیچے دیکھا۔ وہ لمحہ، جس نے سب کچھ بدل دیا۔
دیوار کے اُس پار سے آواز آئی:
“کودو، ایلفریڈ! تم بچ سکتے ہو”

مگر ایلفریڈ کھڑا رہا۔
خاموش، شکست خوردہ، خالی آنکھوں سے دیوار کی اس طرف دیکھتا رہا — جہاں اس کی آزادی تھی، مگر وہ لڑکی نہیں، جس نے اسے انسان بنایا تھا۔

چند لمحوں بعد، وہ بھی واپس نیچے اترا، اور خود کو موت کے حوالے کر دیا۔
یہ اس کی آخری چال تھی — ایک خاموش، مگر سب سے بلند صدا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *