دشمن کی دیواروں کے بیچ
خاموشی کی چادر تنی ہوئی تھی۔ مشرقی جرمنی کا وہ علاقہ، جہاں ایلفریڈ کو لایا گیا تھا، بظاہر معمول کے مطابق دکھتا تھا، لیکن اس کی فضا میں ایک ایسی سرد مہری چھپی تھی جو دل کو چیر کر رکھ دے۔ ہر دیوار، ہر کھڑکی، جیسے زبان رکھتی تھی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ اکیلا نہیں، بلکہ ہر لمحہ کوئی اس کی سانسوں کو گن رہا ہے، اس کے قدموں کی چاپ سن رہا ہے، اور اس کے خوف کی بو محسوس کر رہا ہے۔
ایلفریڈ کو ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا۔ وہاں آنے والے چہرے بدلے ہوئے تھے، مگر نظروں میں ایک سا سوال تھا
“یہ شخص کون ہے؟ اور اس پر بھروسا کیا جا سکتا ہے؟”
وہاں ایک شخص تھا — فِڈلر — ایک ذہین مگر تلخ لہجے والا آفیسر، جو منڈت کا نائب تھا۔ فِڈلر کو شبہ تھا کہ منڈت خود مغربی طاقتوں کا جاسوس ہے۔
اور یہیں سے وہ کھیل شروع ہوا، جو ایلفریڈ کے ذہن و دل، دونوں پر سناٹا طاری کر گیا۔
اندر کی آگ اور بیرونی خاموشی
فِڈلر نے ایلفریڈ سے کئی سوالات کیے۔ اس کی نظریں تیز تھیں، جیسے وہ سیدھا اس کی روح کے پار دیکھ سکتا ہو۔
“تم نے اپنی قوم سے بغاوت کیوں کی، ایلفریڈ؟”
ایلفریڈ نے ایک لمحے کو سانس کھینچا، اور پھر آنکھیں نیچی کر کے کہا،
“جب تمہیں بار بار استعمال کیا جائے، تو تمہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ تم ایک مہرہ ہو… ایک انسان نہیں۔”
فِڈلر نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، اور صرف اتنا کہا:
“تم سچ بول رہے ہو، یا وہ سچ جو ہم سننا چاہتے ہیں؟”
ان دنوں میں، ایلفریڈ کے اندر ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی — وہ سچائی جس کے لیے وہ آیا تھا، اور وہ جھوٹ جس کا وہ حصہ بن چکا تھا۔
وہ جانتا تھا، اگر ایک لفظ بھی غلط کہا، تو وہ نہ صرف خود کو، بلکہ لز کو بھی خطرے میں ڈال دے گا — وہ لڑکی جو اب تک اس کے دل کے کسی گوشے میں چھپی تھی، اسے بچانے کی آرزو اب مشن سے بھی بڑی بن چکی تھی۔
انکشاف اور دھوکہ
فِڈلر نے ایک فائل ایلفریڈ کے سامنے رکھی، اور دھیرے سے کہا:
“یہ ثبوت ہے کہ منڈت تمہارا آدمی ہے۔ کیا تم یہ سچائی دنیا کو بتانا چاہو گے؟”
یہ وہ لمحہ تھا جب ایلفریڈ کو لگا کہ زمین اس کے قدموں سے کھسک گئی ہے۔
مشن کچھ اور تھا، مگر سچ کچھ اور۔ جس کو وہ دشمن سمجھ کر آیا تھا، وہ شاید اس کا اپنا تھا۔ اور جس پر وہ بھروسا کر رہا تھا — اس کا ادارہ — شاید وہی سب سے بڑا جھوٹ تھا۔
اندرونی سوالات
رات گئے، ایلفریڈ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، باہر بادلوں سے ڈھکی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور سوچا:
“کیا یہ سب کچھ صرف ایک چال تھی؟
کیا مجھے صرف قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے؟
کیا میں کبھی آزاد ہو سکوں گا؟
یا ہمیشہ انہی دیواروں میں گم رہ جاؤں گا؟”
اس کے دل کی دھڑکن اب تیز ہو چکی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اب کھیل اپنے انجام کے قریب تھا۔
مگر اس انجام میں کیا بچ سکے گا؟
سچ؟
محبت؟
یا صرف ایک خاموشی جو سب کچھ نگل جائے گی؟








Leave a Reply