خوف اور اضطراب کا لمحہ
ایلفریڈ کی آنکھوں میں اضطراب کی جھلک تھی۔ اس کا دل تیز دھڑک رہا تھا جیسے کوئی غمگین اور خوفناک تصویر اس کی نظروں کے سامنے آ چکی ہو۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مشن صرف ایک جاسوسی نہیں ہے، بلکہ اس کا ہر قدم اس کے اندر کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دے گا۔
مشرق کی سرزمین، جہاں وہ جا رہا تھا، ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہر گوشہ، ہر دروازہ، اور ہر سایہ ایک راز چھپائے ہوئے تھا۔ وہاں اس کا ہر قدم چپکے چپکے دشمن کی نظر میں آ رہا تھا۔ اس کے جسم میں لرزہ تھا، اور اس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ یہ سب کچھ کسی طرح ختم ہو جائے، مگر اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اس کی تقدیر اس کے ہاتھوں میں نہیں تھی، بلکہ ایک کھیل کا حصہ بن چکا تھا۔
“میں کیا کروں گا اگر یہ سب کچھ غلط ہو گیا؟” اس کا ذہن مسلسل یہ سوالات اٹھا رہا تھا، مگر اس کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے دل میں خوف کی لہر دوڑ رہی تھی—وہ خوف جس کا سامنا وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا، مگر اس بار وہ اسے نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا۔
اس کے دماغ میں ایک اور سوال اُٹھا: “کیا میں اس مشن میں کامیاب ہو سکوں گا؟ یا پھر یہ صرف ایک طریقہ ہے، جس میں میں اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہوں؟”
ایلفریڈ نے اپنی نظریں اوپر اٹھائیں، اور اپنے افسر کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک دھندلا سا مسکراہٹ تھی، جو اس کے اندر کی بے چینی کو مزید بڑھا دیتی تھی۔ “یہ مشن تمہارے لیے سب سے اہم ہے، ایلفریڈ۔” افسر نے کہا، اور اس کی آواز میں ایک پراسرار شدت تھی۔
ایلفریڈ جانتا تھا کہ وہ اس گھناؤنی حقیقت سے جتنا دور بھاگے گا، اس کی زندگی اتنی ہی مزید پیچیدہ ہوتی جائے گی۔ اس کے دماغ میں اس لمحے میں بس ایک ہی سوچ گھوم رہی تھی: “یہ میرا مشن ہے، اور میں اسے کامیابی کے ساتھ مکمل کرنا ہوگا، ورنہ اس کے بعد کچھ باقی نہیں بچے گا۔”
اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، جیسے کسی کمرہ میں بند، اذیت بھری سانسوں کے بیچ وہ اپنے خوف سے لڑ رہا ہو۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا ہر فیصلہ اس کی تقدیر کو بدل دے گا، اور اس کا اگلا قدم اس کی زندگی کا آخری قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔








Leave a Reply