,

“دلوں کی مسکراہٹ” “محبت کا آغاز، تقدیر کا رشتہ (part 3)

زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ زینب کی محبت میں ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی تھی جس کا سامنا اسے کرنا پڑا۔ علی کی محبت ایک خوبصورت خواب کی طرح تھی، لیکن حقیقت میں یہ خواب پیچیدہ راستوں پر چلنے کی کہانی بن چکا تھا۔ زینب کو اپنے خاندان کی توقعات اور ان کے اصولوں کا سامنا تھا۔ اس کے گھر والے علی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے، اور نہ ہی وہ اس کی محبت کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔

زینب کی ماں ہمیشہ اپنی بیٹی کے لیے ایک اچھے خاندان والے لڑکے کی خواہش رکھتی تھی، جو نہ صرف ان کے معیار پر پورا اُترے، بلکہ ان کی عزت اور روایات کا بھی خیال رکھے۔ زینب کے والد کی کمی نے ان کے دلوں میں ایک اور خوف پیدا کر دیا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی کسی ایسے لڑکے کے ساتھ زندگی گزارے جس کا خاندان ان کے اصولوں کے مطابق نہ ہو۔ علی کا خاندان، اس کی دولت اور حیثیت، زینب کے خاندان کے لیے ایک الجھاؤ بن گیا تھا۔ ان کے لیے علی کا خاندان ایک غیر روایتی تھا، جو ان کی زندگیوں کے معیار سے مختلف تھا۔

زینب کا دل بے حد ٹوٹ رہا تھا۔ وہ علی سے محبت کرتی تھی، لیکن وہ اپنے خاندان کے جذبات اور خواہشات کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ علی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے اپنے خاندان سے الگ ہونا پڑے گا۔ اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک تھی، لیکن دل میں ایک خوف بھی تھا کہ کہیں وہ اپنے خاندان کی عزت کو ٹھیس نہ پہنچا دے۔

ایک رات جب زینب اور علی کی ملاقات ہوئی، تو اس کا دل بوجھل تھا۔ وہ جانتی تھی کہ علی سے بات کرنا ضروری ہے، لیکن وہ اس سے یہ بات کیسے کرے گی؟ کیسے وہ اپنے دل کی بات کہے گی، اور علی کو بتائے گی کہ وہ اپنی محبت کو اپنے خاندان کی خوشی پر قربان کر رہی ہے؟

“علی، تم جانتے ہو کہ میری زندگی کا ایک حصہ تم ہو، لیکن میں جانتی ہوں کہ میرے خاندان کی خوشی میری اولین ترجیح ہے۔” زینب کی آواز میں ایک بے چینی تھی۔ اس کے الفاظ علی کے دل پر گہرے اثرات ڈالے، اور اس نے فوراً اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔

“زینب، کیا تم مجھے چھوڑ دو گی؟ کیا تم اپنی محبت کی قربانی دے دو گی؟” علی کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سوالات اور خوف کی جھلک تھی۔ اس نے زینب کی آنکھوں میں گہری محبت کے آثار دیکھے، اور وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ دونوں کے لیے کٹھن ہے۔

زینب کی آنکھوں میں ایک نم سی لہر دوڑ گئی۔ وہ علی کے قریب بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا، “علی، میں تمہیں نہیں چھوڑنا چاہتی، لیکن میرے خاندان کی رضا میری ذمہ داری ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے کوئی خاندان میں فاصلے آ جائیں۔”

اس لمحے میں زینب نے علی کے چہرے پر ایک درد بھری مسکراہٹ دیکھی۔ اس کی محبت میں اتنی شدت تھی کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے بارے میں سوچ رہا تھا، لیکن پھر بھی وہ زینب کی محبت کی قربانی کے سامنے عاجز تھا۔

“زینب، تم نے میری زندگی بدل دی ہے، تمہاری محبت نے میری روح تک کو چھو لیا ہے۔ میں تمہارے فیصلے کا احترام کروں گا، لیکن تمہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تمہارے لیے کیا زیادہ اہم ہے، محبت یا خاندان؟” علی کی آواز میں ایک درد چھپ گیا تھا۔ وہ اپنی محبت کو کھونا نہیں چاہتا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ زندگی میں کبھی کبھی ہمیں اپنی محبت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔

زینب کا دل شدید تکلیف میں تھا، جیسے اس کا دل دھیما دھیما ٹوٹ رہا ہو۔ وہ علی کی آنکھوں میں چھپے درد کو محسوس کر رہی تھی، اور وہ خود کو بے حد ملامت کر رہی تھی کہ اسے یہ فیصلہ کیوں لینا پڑا۔

آخرکار، زینب نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے خاندان کی خوشی کے لیے علی سے دوری اختیار کرے گی۔ “علی، میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا رہی، لیکن مجھے اپنے خاندان کی خوشی کی خاطر اس رشتہ کو کچھ وقت کے لیے ٹھہرنا ہوگا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمہاری محبت کو اپنے دل میں ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گی۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب زینب نے اپنی محبت کی سب سے بڑی قربانی دی۔ اس کے دل میں علی کے لیے محبت کی گہرائیاں تھیں، لیکن وہ جانتی تھی کہ خاندان کی خوشی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

علی کے دل میں زینب کی محبت کا غم تھا، لیکن اس نے زینب کے فیصلے کا احترام کیا۔ “زینب، میں ہمیشہ تمہاری دعاؤں کے ساتھ ہوں، تم جہاں بھی جاؤ گی، میری محبت تمہارے ساتھ ہو گی۔”

یہ الفاظ علی کے دل کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے، اور وہ جانتا تھا کہ ان کے درمیان محبت کبھی ختم نہیں ہو گی، چاہے وہ الگ ہو جائیں۔

                                                      (جاری ہے) 

 

 
 

2 responses to ““دلوں کی مسکراہٹ” “محبت کا آغاز، تقدیر کا رشتہ (part 3)”

  1. […] “دلوں کی مسکراہٹ” “محبت کا آغاز، تقدیر کا رشتہ … […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *