زینب اور علی کی ملاقاتوں کا سلسلہ آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے اور دل کی گہرائیوں سے باتیں کرتے تھے۔ ہر ملاقات میں، وہ ایک دوسرے کو اپنے خیالات، جذبات اور خوابوں کا اشتراک کرتے تھے، جیسے دونوں کی زندگیاں ایک ہی دھاگے سے جڑی ہوئی ہوں۔ علی کا ہر لفظ زینب کے دل میں گہرائی سے اُترتا اور زینب کی نرم مسکراہٹ علی کے دل کو سکون بخشتی۔
زینب کے لیے علی کی موجودگی ایک ایسی خوشبو کی مانند تھی جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتی، اس کے جذبات اور خیالات کو ایک نیا رنگ دیتی۔ ہر ملاقات کے بعد وہ علی کے بارے میں مزید سوچتی، اس کی مسکراہٹ اور باتوں کا تاثر اس کے دل میں بڑھتا جاتا۔ علی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے جیسے ایک خواب بن جاتے تھے، اور وہ خواب زینب کے دل کی گہرائیوں میں جا کر بیٹھا تھا۔
ایک دن، جب وہ دونوں ایک خوبصورت کیفے میں بیٹھے ہوئے تھے، علی نے خاموشی سے زینب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “زینب، تم میری زندگی کا سب سے خوبصورت خواب ہو، اور میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ میری زندگی میں رہو۔” علی کا یہ کہنا تھا کہ زینب کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ علی نے اس کے ہاتھوں کو نرم اور محبت سے پکڑا تھا، جیسے وہ اپنے جذبات کی گہرائیوں کو اس کے جسم کے ہر حصے میں منتقل کرنا چاہ رہا ہو۔
زینب کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے کنفیوشن اور اضطراب تھا، مگر پھر اس کے لبوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ آ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ علی کی محبت سچی تھی، اس کے لفظوں میں اتنی شدت اور جذبہ تھا کہ زینب کا دل خودبخود اس کی طرف کھنچنے لگا۔ لیکن پھر بھی وہ کچھ نہ بولی۔ اس کے اندر ایک عجیب سی کیفیت تھی، جیسے وہ کسی نئے باب میں قدم رکھنے والی ہو، جہاں خوشی اور غم دونوں کا ایک ساتھ سامنا ہو گا۔
زینب کی نظریں علی کی آنکھوں میں گم ہو گئیں۔ وہ دیکھ سکتی تھی کہ اس کی آنکھوں میں محبت کی گہرائیاں چھپی ہوئی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ اس کی روح کی گہری آواز تھی جو زینب تک پہنچ رہی تھی۔ علی کی محبت ایک گہرا سمندر تھی، اور زینب کا دل اس سمندر میں غوطہ لگانے کے لیے تیار تھا، لیکن پھر بھی اس کے اندر ایک خوف تھا، ایک خوف جو اس کے خاندان اور اپنی زندگی کے اصولوں کے بارے میں تھا۔
زینب کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، اور اس کی سانسیں بھی بے ترتیب ہو رہی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ علی کا دل سچا ہے، مگر کیا وہ خود بھی اس کے جذبات کا جواب دینے کے لیے تیار تھی؟ کیا وہ اپنے خاندان کے جذبات کو نظر انداز کر کے علی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کے لیے تیار تھی؟ اس کے ذہن میں یہ سوالات تیز رفتاری سے گزر رہے تھے، اور اس کی نظریں علی کے چہرے پر تھی۔
علی نے اس کی خاموشی کو احساس کیا اور پھر نرمی سے کہا، “زینب، اگر تمہیں ڈر ہے، تو میں انتظار کر سکتا ہوں۔ میں تمہارے فیصلے کا احترام کروں گا، کیونکہ تمہاری محبت میرے لیے سب کچھ ہے۔”
زینب کی آنکھوں میں ایک ہلکا سا چمک آیا، اور وہ علی کے ہاتھ کو تھامے ہوئے آہستہ سے بولی، “علی، یہ صرف ڈر نہیں ہے، بلکہ یہ میرے دل میں ایک نیا سفر شروع کرنے کا خوف ہے۔ لیکن، میں جانتی ہوں کہ تمہاری محبت میرے دل میں ہے، اور شاید مجھے اس کا جواب دینا ہی پڑے گا۔”
اس لمحے میں، دونوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ علی کی محبت میں وہ گہرائی تھی جو زینب کے دل کو مائل کر دیتی تھی، اور زینب کی نرم مسکراہٹ میں وہ سکون تھا جس کی علی کو تلاش تھی۔








Leave a Reply