,

راولپنڈی سے لاہور جانے والی بس بلکسر انٹرچینج کے قریب حادثے کا شکار، سات ہلاک، 20 زخمی

27 جولائی 2025 کو ایک نجی کمپنی کی بس راولپنڈی سے لاہور کی جانب سفر کر رہی تھی جب بلکسر انٹرچینج کے قریب اس کا فرنٹ بائیں ٹائر پھٹنے کے بعد ڈرائیور کنٹرول کھو بیٹھا۔ نتیجے میں بس موڑ سے نیچے الٹ گئی، جس سے سات افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دس کی حالت تشویشناک رہی جبکہ دس معمولی زخمی تھے۔ ہلاک شدگان اور شدید زخمیوں کو چکوال کے ہسپتال منتقل کیا گیا

 جولائی 2025 کو پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ  موٹروے پر بلکسر انٹرچینج کے قریب پیش آیا، جہاں ایک نجی کمپنی کی مسافر بس راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے ٹائر پھٹنے کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور الٹ گئی۔ حادثے کے فوری بعد موٹروے پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ دس زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ دیگر زخمیوں کو قریبی چکوال کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ حادثے میں ہلاک اور شدید زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ افراد شامل تھے، جس سے اس سانحے کی شدت اور المناک نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حادثے کے فوراً بعد پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ حادثے میں الٹی ہوئی بس کو کرین کی مدد سے سیدھا کیا گیا تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔ ہلاک شدگان کی لاشیں اور زخمی افراد کو چکوال کے مرکزی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں مزید طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی قانونی تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

حادثے کی اصل وجہ ٹائر پھٹنے کے بعد رفتار پر قابو نہ رکھنا سامنے آیا۔ اس میں رفتار، بس کی حالت، اور حفاظتی تدابیر کی کمی شامل ہو سکتی ہے۔

ایسے المناک حادثات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیاں اپنی بسوں کی باقاعدہ تکنیکی جانچ یقینی بنائیں، خاص طور پر ہائی وے پر سفر سے قبل۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈرائیورز کو رفتار پر قابو رکھنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل تربیت دی جائے تاکہ وہ ایسے مواقع پر مؤثر فیصلہ کر سکیں۔ مسافروں کے تحفظ کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال، گاڑی میں سوار افراد کی تعداد پر کنٹرول اور دیگر حفاظتی اقدامات کو بھی سختی سے لاگو کیا جانا چاہیے۔ موٹروے پولیس کو چاہیے کہ وہ شاہراہوں پر مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنائے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *